بدھ 4 نومبر 2026 - 14:39
امریکی انتخابات کے نتائج؛ کیا ڈیموکریٹس کی کامیابی ایران کے مفاد میں ہے؟

حوزہ/ امریکہ میں ووٹوں کی گنتی اختتام کے قریب ہے، ایک جماعت کی جگہ دوسری جماعت اقتدار سنبھال رہی ہے اور بعض حلقے واشنگٹن کے سیاسی منظرنامے میں تبدیلی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ عالمی معادلات پر ایران کے اثر و رسوخ کی حقیقت بعض لوگوں کے لیے پہلے سے زیادہ واضح ہو چکی ہے، لیکن اقتدار کی اس تبدیلی کے پس پردہ ایک حقیقت بھی موجود ہے جسے امریکی جماعتوں کی کامیابی اور ناکامی کے شور میں فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر اس مسئلے کو اہمیت دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکہ کا طرزِ عمل کیا ہے اور واشنگٹن میں سیاسی تبدیلیوں سے اس کا کیا تعلق ہے۔

شاید پہلی نظر میں بعض لوگوں کے لیے امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست اور ڈیموکریٹس کی کامیابی خوشی کا باعث ہو سکتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ وہ امریکی صدر ہیں جن کے دورِ صدارت میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی گئی اور ہزاروں ایرانی شہری، رہبر و امامِ امت اور میناب کے معصوم بچے شہید ہوئے۔

اس سے قبل بھی بعض تجزیہ نگاروں نے ایران کے ساتھ جنگ کے بھاری اخراجات اور اس کے نتائج، جن میں امریکہ کے اقتصادی مسائل میں شدت اور ایندھن کا بحران بھی شامل ہیں، کو ریپبلکن پارٹی کی شکست کے مؤثر عوامل قرار دیا تھا۔ یہ صورتِ حال اگر ایک طرف عالمی معادلات پر ایران کے اثر و رسوخ اور بڑی طاقتوں کے فیصلوں پر اس کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری طرف اسے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کی امید کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنی کے بنیادی معاملے میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں جماعتیں اپنے اپنے طریقے سے ایران کو کمزور کرنے اور اس کی خودمختاری و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہیں؛ ایک نے جنگ اور فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو دوسری نے پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

کیا ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا ایک بڑا حصہ ڈیموکریٹک صدور کے دورِ حکومت میں نافذ نہیں کیا گیا؟

کیا دباؤ کی پالیسی، دشمنانہ اقدامات کی حمایت اور ایران کی معیشت کو کمزور کرنے کی کوششیں صرف ایک ہی جماعت تک محدود رہی ہیں؟

جو دشمن کبھی فوجی حملے کے ذریعے ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی پابندیوں، اقتصادی دباؤ، بدامنی کی حمایت، حتیٰ کہ ملک کو تقسیم کرنے اور بغاوت برپا کرنے کی کوششوں کے ذریعے اسی مقصد کے حصول کے درپے ہوتا ہے، وہ محض حکمران جماعت کا نام تبدیل ہونے سے دوست یا مہربان دشمن نہیں بن جاتا! دونوں جماعتوں کے لیے ایران کو کمزور کرنا اور اس کی طاقت و خودمختاری کو نقصان پہنچانا ایک ایسا ہدف رہا ہے جس کے حصول کے لیے مختلف ادوار میں مختلف ذرائع استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

لہٰذا، ریپبلکن پارٹی کی شکست کو عالمی معادلات میں ایران کی طاقت اور اس کے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے؛ یہی وہ طاقت ہے جس نے رہبرِ شہید کے بقول ایران کو دنیا کی بڑی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم، یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایران کے خلاف امریکی دشمنی کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ملک کے اندر بعض لوگ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد واشنگٹن کی پالیسیوں میں تبدیلی کی امید لگا کر خوشیاں منانے لگے اور ایک بار پھر امریکہ میں حکومت کی تبدیلی سے امیدیں وابستہ کر لیں، کیونکہ دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی اقتدار میں ہو، امریکہ وہی امریکہ ہے۔

شہید امام خامنہ ای بارہا اس بات پر تاکید کر چکے تھے کہ امریکہ کی جماعتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اور اس ملک میں حکومت کی تبدیلی سے امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔

رہبر شہید کے ارشادات حسبِ ذیل ہیں:

1۔امریکہ، امریکہ ہی ہے؛ یہ جماعت ہو یا وہ جماعت، ان میں سے جو بھی اقتدار میں آئی، اس نے ہمیں کوئی بھلائی نہیں پہنچائی، بلکہ نقصان ہی پہنچایا۔ ایک نے پابندیاں عائد کیں، دوسرے نے طیارے پر حملہ کیا، ایک نے تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا اور ایک نے ہمارے دشمنوں کی مدد کی۔ ہمیں کوئی تشویش بھی نہیں ہے؛ ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہر ممکنہ صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دنیا میں بعض لوگ اس بات پر سوگ منا رہے ہیں کہ اس ملک میں انتخابات کے نتائج ایسے کیوں آئے، جبکہ دنیا میں کچھ لوگ خوشی منا رہے ہیں اور جشن کر رہے ہیں؛ لیکن ہم نہ سوگ مناتے ہیں اور نہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں؛ ہمارے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ملک کو ممکنہ مشکلات سے کس طرح نکالا جائے؛ قوم کو بھی اسی بارے میں سوچنا چاہیے۔

ملک کو درپیش تمام ممکنہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ، خواہ وہ اس دور میں پیش آئیں، دس سال بعد یا پچاس سال بعد، یہی ہے کہ ملک اندرونی طور پر مضبوط ہو۔

دیکھیں کہ استحکام کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ نظام کا داخلی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے؛ خواہ وہ سیاسی استحکام ہو، اقتصادی استحکام ہو، ثقافتی استحکام ہو یا سب سے بڑھ کر افراد، بالخصوص دانشوروں اور ملک کے اعلیٰ حکام کا روحانی اور نفسیاتی استحکام۔

اصفہانی عوام سے ملاقات میں خطاب، 16 نومبر 2016ء

2۔ خواہ وہ جماعت ہو جس کی حکومت آج امریکہ میں برسرِ اقتدار ہے یا وہ حریف جماعت جس کے ہاتھ میں گزشتہ حکومت تھی، ان میں سے کوئی بھی اخلاقی اہلیت نہیں رکھتی؛ کیونکہ دونوں جماعتیں مختلف جرائم اور سنگین مظالم کا ارتکاب کر چکی ہیں۔ امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی کو بھی اخلاقی اہلیت کے اعتبار سے دوسری پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ ہمارا واسطہ امریکہ کی ایسی ہی حکومتوں سے ہے اور یہ تصور کرنا کہ مذاکرات کے ذریعے مفاہمت اور مشترکہ نکات تک پہنچا جا سکتا ہے، ایک غلطی ہے۔

وزارتِ دفاع کے حکام اور ماہرین سے ملاقات میں خطاب، 31 اگست 2016ء

3۔ ایرانی قوم کی نظر میں کارٹر کی شیطانی طاقت اور ریگن کی شیطانی طاقت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ امریکہ نے اپنے حکومتی نظام میں نئی تبدیلی کے انتخاب کے ذریعے اپنے اقتدار کے خاتمے کی جانب مزید قدم بڑھا دیا ہے۔ یہ دونوں جماعتیں اپنی اقتصادی اور سیاسی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کا فرق منافق اور کافر کے فرق جیسا ہے؛ ان میں سے ایک منافق تھی اور دوسری کھلے کفر کی حامل۔ صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہمیں پوری تیاری کے ساتھ اللہ کے ان دشمنوں کو مرعوب کرنا چاہیے۔

نمازِ جمعہ کے خطبات، 7 نومبر 1980ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha